یا حبیبی دوستی اپنی جگہ مگر ایکسیڈنٹ اپنا اپنا ۔۔۔۔۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد ، عمران خان کا ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنا اور چند معنی خیز لطائف ۔۔۔۔ ایک شاندار تحریر ملاحظہ کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) مودی سرکار ڈگی کھوتی سے ہے اور غصہ کمہار پر کاڈ رہی ہے۔ بجائے پاکستان پر الزام تراشی کے اگر اپنی منجھی تھلے ڈانگ پھیر لیتی تو اسے سچ سمجھ آجاتا۔ بھیا میرے خون تو خون ہے ٹپکے گا تو جم ہی جائے گا۔ لیکن شہید کا خون تو اتنی حرارت لئے ہوتا ہے کہ

نامور کالم نگار ایثار رانا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔ٹپک کر جمنے کی بجائے چراغ کی طرح روشن ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر حکمران مودی کی طرح اندھا ہو تو اسکے سامنے چراغ کیا سورج بھی رکھ دو اس کے من کا بھیانک اندھیرا ختم نہیں ہوسکتا۔ ویسے تو ریاست عوام کی ماں ہوتی ہے لیکن بھارت ریاست 1947ء سے مسلمانوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کر رہی ہے اور مودی سرکار تو وہ باندری ہے جو پیر سڑنے پر اپنے بچوں کو پیروں تھلے لے لیتی ہے۔ بم پلوامہ میں پھٹا اور قیامت بھارتی مسلمانوں پر آگئی۔ کشمیر میں جو ہو رہا ہے اب دنیا دیکھ رہی ہے اور مودی سرکار کی طرح اندھی نہیں۔ اس بار وہ پاکستان پر جتنے مرضی الزام دھرے دنیا جانتی ہے ماضی میں مسلمانوں کے خون سے رنگین ہاتھ والا یہ ڈریکولا ا نتخابات جیتنے کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہے۔ حتیٰ کہ پاکستان سے جنگ بھی۔ پنڈ وسیا نئی تے اچکے پہلے ہی تیار کرلئے او عقل کے اندھے پہلے ثبوت تو لاؤ پاکستان کے خلاف ابھی الزام لگایا ہے اور فنکاروں پر پابندی، کھلاڑیوں پر پابندی فوراً لگا دی۔ بھلا ہے کوئی بات کہتے ہیں اب بھارت سے پاکستان ٹماٹر نہیں آئیں گے اور سرکار آتنگواد ٹماٹر کی وجہ سے نہیں، نہ بھیجو ٹماٹر اب تم پر کشمیری روز آلو لائیں گے۔

آلو لانے کا مطلب نہیں آتا تو نوجوت سنگھ سدھو سے پوچھ لو۔ وہ اکیلا ہی سچائی کی لڑائی لڑنے نکلا ہے۔ سلام ہے میرا پاہ جی کو۔ یہاں پاکستانی قیادت کا بھی امتحان ہے، وزیراعظم عمران خان نے درست وقت پر قوم کے جذبات کی ترجمانی کی۔ گو لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے لیکن ہم نے مصنوعی جنگوں اور زبردستی لاگو کی گئی دہشت گردی کی بہت قیمت چکا دی۔ ہم نے جنگ سے بچنا ہے! اگر ہم اب درست سمت چل ہی پڑے ہیں تو کسی جذباتیت میں نہیں پڑنا چاہتے۔ اس لئے ہم حکمرانوں کو عاجزانہ مشورہ دینگے کہ خاں جی بچو موڑ توں۔ میرا یقین ہے نوازشریف عمران خان کی ڈرائیونگ دیکھ کر اپنا ڈرائیونگ لائسنس ضرور تلاش کر رہے ہونگے۔ اب میں نہیں جانتا کہ وزیراعظم نے جو گاڑی ڈرائیو کی وہ مینول تھی یا آٹو میٹک اگر آٹومیٹک تھی پھر نوازشریف کیلئے کوئی مشکل نہ ہوتی ہاں اب ان کے لئے گیئر ڈالنا اور نکالنا خاصا مشکل کام، کون کلچ دبائے کون گیئر ڈالے اور کون کلچ اور اس میں توازن رکھے۔ شکر ہے انہیں گائنی وارڈ میں کمرہ پسند آگیا۔ موجودہ حالات دیکھ کر مجھے یقین ہے مسلم لیگ کیلئے کوئی خوشخبری آنے والی ہے۔ یہ ماننا پڑے گا وزیراعظم نے جتنی ’’سموتھ‘‘ ڈرائیونگ کی وہ سب کے لئے حیران کن ہے۔

کاش اس وقت سرکاری بینڈ یہ دھن بجاتا سانو وی لے چل نال وے باؤ سوہنی گڈی والیا۔ خاتون گاڑی ڈرائیو کر رہی تھیں ایک شخص کھمبے پر چڑھا تاریں ٹھیک کررہا تھا۔ بولیں منحوس سمجھتا ہے کہ مجھے گاڑی چلانی نہیں آتی۔ یہ تو عمران خان کی فٹنس ہے کہ پرنس سلمان انکی ڈرائیونگ پر اعتماد کر بیٹھے۔ وہ شہزادے ہیں کوئی اور لرزیدہ ہاتھوں والا وزیراعظم ہوتا تو بلا جھجک کہہ سکتے تھے یا حبیبی دوستی اپنی جگہ لیکن ایکسیڈنٹ اپنا اپنا۔جس طرح ہم نے اپنے سعودی شہزادے کا استقبال کیا وہ اس لئے تاریخی ہے کہ پوری قوم کو سوائے اسلامی سربراہی کانفرنس کے میں نے کبھی اس طرح دیدہ دل فرش راہ ہوتے نہیں دیکھا۔ ایم او یوز پر دستخط ہوئے ہیں تو ہمارا یہ حال ہے معاہدے ابھی ہونے ہیں ایک سردار جی چوک میں کھڑے بھڑکیں مار رہے تھے کسی نے کہا سردار جی لگدا اے لائی ہوئی ہے وہ رانوں پہ ہاتھ مار کر بولے اوئے ابھی تو منگائی ہوئی ہے۔جو بھی ہو ہمیں ایک بھائی کو خوش کرنے کے لئے دوسرے بھائی کو ناراض نہیں کرنا چاہئے۔ ایران کو اعتماد میں لینا ضروری ہے اسے یہ یقین دلانا ضروری ہے کہ سعودی عرب سے دوستی کا مطلب کہیں بھی ایران سے دشمنی نہیں۔ اگر اسکے دل میں شکایات پیدا ہو رہی ہیں تو ہمیں انہیں دور کرنا چاہئے،

کچھ عرصہ سے چین بھی خاموش ہے۔ سچی بات ہے ہمیں چین کی خاموش کسی صورت قبول نہیں وہ ہمارا سچا سنگی ساتھی ہے۔ اس لئے جذبات میں جوش کے ساتھ ہوش ضروری ہے۔ سردار جی اپنا نکاح نامہ دیکھ رہے تھے بیگم بولیں کیا دیکھ رہے ہو۔ بولے ایس دی ایکسپائری ڈیٹ لھبدا آں۔ اب حکومت نے سابق خادم اعلیٰ جونیئر کو تیس دن کیلئے باہر جانے سے روک دیا ہے۔ کوئی پوچھے بھائی شہبار کی پرواز کو بھی کوئی روک سکا، اور پھر اب شہباز مہربانوں کی خواہش پر اڑنے کو تیار ہے تو اڑنے دیں۔ لیکن کیا کہوں حکومت کو چس لینے کی عادت ہوگئی ہے۔ بھیج تو دے گی لیکن دودھ میں مینگنیں ڈال کے۔ سعودی دورے کی کامیابی نے حکومت کو کئی شرمندگیوں سے بچا لیا۔ ان میں ایک شہباز شریف کی ضمانت بھی ہے۔ جو ضمانت دے سکتے ہیں وہ بھیج بھی سکتے ہیں میری بات یاد رہے بوقت ضرورت کام آوے گی۔ ہمارے نصیبوں کے ٹھیکیدار جیل رہیں یا لندن، غریب مسکین عوام کو کیا فرق پڑتا ہے۔ راہ پیا جانے تے واہ پیا جانے قوم نے تو مہنگائی، بے روزگاری کے دانے ہی بھوننے ہیں، خاتون نماز کے بعد دعا مانگ رہی تھیں اچانک انہوں نے ہاتھ نیچے کر لئے شوہر نے پوچھا تو بولی میں بولی اللہ سے دعا مانگ رہی تھی آپ کی تمام مصیبتیں دور کردے پھر سوچا کہیں میں ہی نہ مر جاؤں۔ سو ابھی قوم کے اتنے اچھے دن نہیں آئے کہ سب مصیبتیں ختم ہو جائیں۔ یہاں کوئی ان کے لئے اتنا درد رکھتا ہے اور نہ دعا مانگنے کی ہمت۔

Source

Leave a Comment

Pin It on Pinterest

Shares
Share This