تہران کی جانب سے مار گرایا جانیوالا امریکی ڈرون ایرانی فضائی حدود میں تھا، روس نے ایران کے موقف کی حمایت کردی،امریکہ کو بڑا سرپرائز

ماسکو(آن لائن)تہران کی جانب سے گزشتہ ہفتے مارگرایا جانیوالا امریکی ڈرون ایرانی فضائی حدود میں تھا، یہ بات روس کی قومی سلامتی کے سربراہ نے امریکہ کی جانب سے اس کے برعکس دعوؤں کے باوجود منگل کے روز کہی۔روسی خبررساں اداروں نے نیکولائی پیڈروشیف کی یروشلم میں صحافیوں کی گفتگوکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجھے روسی فیڈریشن کی وزارت دفاع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ یہ ڈرون ایرانی فضائی حدود میں تھا۔

پیٹرو شیف امریکی و اسرائیلی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لئے یروشلم میں ہیں جیسا کہ 19جون کو ایران کی جانب سے ایک امریکی جاسوس طیارہ مار گرانے کے بعد سے کشیدگی بڑھ چکی ہے اور امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے جوابی حملے کیلئے پہلے غورکیا اور پھر ارادہ ملتوی کردیا۔ایران کا اصرار ہے کہ ڈرون طیارے نے آبنائے ہرمز کے نزدیک ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تاہم پینٹاگون اس بات کی تردید کرتا ہے کہ وہ ایرانی حدود میں داخل ہوا تھا۔

تہران کی جانب سے مار گرایا جانیوالا امریکی ڈرون ایرانی فضائی حدود میں تھا، روس نے ایران کے موقف کی حمایت کردی،امریکہ کو بڑا سرپرائز

Source

Leave a Comment

Pin It on Pinterest

Shares
Share This