10 ارب روپے ہرجانے کا کیس۔۔۔۔۔کپتان کو بڑی خوشخبری مل گئی

لاہور (ویب ڈیسک) سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی کے ہرجانے کے دعووں کا چیئرمین تحریک انصاف اور متوقع وزیر اعظم عمران خان نے پھر جواب نہ دیا۔ایڈیشنل سیشن جج نے پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی طرف سے تحریک انصاف کے چیئرمین اور متوقع وزیراعظم عمران خان کے خلاف 10ارب روپے ہرجانے کیس کی سماعت یکم ستمبر تک کے لئے ملتوی کردی۔ گزشتہ روز وکلاء کی ہڑتال کی وجہ سے اس کیس میں وکلاء عدالت میں پیش نہیں ہوسکے اور نہ ہی پھر عمران خان نے جواب جمع کرایا۔ میاں شہباز شر یف نے عمران خان کے خلاف جو ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے رشو ت لینے کا الزام لگا کر میری شہرت کو نقصان پہنچایا ہے۔ ادھرایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی کی طرف سے پا کستا ن تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف 10کروڑ روپے ہرجانے کےدعوے کی گزشتہ روز پھرسماعت ہوئی۔ عمران خان کی طرف سے اب تک کوئی جواب پیش نہیں کیاگیا۔ عدالت نے عمران خان کو ایک بار پھر جواب پیش کرنے کا حکم دیا اورمزید سماعت یکم ستمبر تک کے لئے ملتوی کردی۔دوسری جانب ملک کے 22ویں وزیراعظم کا انتخاب کل عمل میں لایا جائے گا جس کے لیے عمران خان اور شہباز شریف کے درمیان مقابلہ ہوگا۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق وزارت عظمیٰ کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے مقررہ وقت تک صرف 2 ممبران قومی اسمبلی عمران خان اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے۔دونوں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد نامزدگی فارم درست قرار دیتے ہوئے منظور کیے گئے۔وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام ساڑھے 3 بجے شروع ہوگا جس کے دوران ایوان کی دو حصوں میں تقسیم سے قائد ایوان کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ہر امیدوار کے لیے قومی اسمبلی ہال میں ایک ایک لابی مختص ہوگی، جو رکن جس امیدوار کو ووٹ دینا چاہے گا اس لابی میں چلا جائے گا جس کے بعد اراکین کی گنتی کے بعد اکثریت حاصل کرنے والا امیدوار ملک کا نیا وزیراعظم ہوگا۔قومی اسمبلی کے قواعد کے مطابق 342 کے ایوان میں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کسی بھی امیدوار کو سادہ اکثریت یعنی 172 ووٹ لینا ہوتے ہیں، اگر 172 کی اکثریت نہ ملے تو ایوان کے اکثریتی ارکان سے انتخاب ہوتا ہے۔قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے چناو کے لیے جیت عددی برتری رکھنے والی جماعت کی ہی ہوگی، ایوان زیریں میں موجودہ پارٹی پوزیشن کو دیکھا جائے تو 152 نشستیں پاکستان تحریک انصاف کے پاس ہیں جبکہ سابقہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ایوان میں 81 نشستیں ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کی 54 نشستیں، متحدہ مجلس عمل 15 ، متحدہ قومی مومنٹ 7 ، بلوچستان عوامی پارٹی 5، بی این پی مینگل 4، پاکستان مسلم لیگ ق 3، جی ڈی اے 3، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی ایک ایک نشست ہے جبکہ 4 نشستیں آزاد امیدواروں کے پاس ہیں۔(ذ،ک)

Source

اپنا تبصرہ بھیجیں