ایک خواہش

ایک خواہش

اب کی بار ملو جب مجھ سے

پہلی اور بس آخری بار

ہنس کر ملنا

پیار بھری نظروں سے تکنا

ایسے ملنا

جیسے ازل سے

میرے لیے تم سرگرداں تھے

بحر تھا میں تم موج رواں تھے

پہلی اور بس آخری بار

ایسے ملنا

جیسے تم خود مجھ پہ فدا ہو

جیسے مجسم مہر وفا ہو

جیسے بت ہو تم نہ خدا ہو

Leave a Comment

Pin It on Pinterest

Shares
Share This