سنبھل اے دل تڑپنے اور تڑپانے سے کیا ہوگا

سنبھل اے دل تڑپنے اور تڑپانے سے کیا ہوگا

سنبھل اے دل تڑپنے اور تڑپانے سے کیا ہوگا

جہاں بسنا نہیں ممکن وہاں جانے سے کیا ہوگا

چلے آؤ کہ اب منہ پھیر کر جانے سے کیا ہوگا

جو تم پر مر مٹا اس دل کو تڑپانے سے کیا ہوگا

ہمیں سنسار میں اپنا بنانا کون چاہے گا

یہ مسلے پھول سیجوں پر سجانا کون چاہے گا

تمناؤں کو جھوٹے خواب دکھلانے سے کیا ہوگا

تمہیں دیکھا تمہیں چاہا تمہیں پوجا ہے اس دل نے

جو سچ پوچھو تو پہلی بار کچھ مانگا ہے اس دل نے

سمجھتے بوجھتے انجان بن جانے سے کیا ہوگا

جنہیں ملتی ہیں خوشیاں وہ مقدر اور ہوتے ہیں

جو دل میں گھر بناتے ہیں وہ دلبر اور ہوتے ہیں

امیدوں کو کھلونے دے کے بہلانے سے کیا ہوگا

بہت دن سے تھی دل میں اب زباں تک بات پہنچی ہے

وہیں تک اس کو رہنے دو جہاں تک بات پہنچی ہے

جو دل کی آخری حد ہے وہاں تک بات پہنچی ہے

جسے کھونا یقینی ہو اسے پانے سے کیا ہوگا

Leave a Comment

Pin It on Pinterest

Shares
Share This