شعر کا حسن ہو نغموں کی جوانی ہو تم

شعر کا حسن ہو نغموں کی جوانی ہو تم

شعر کا حسن ہو نغموں کی جوانی ہو تم

اک دھڑکتی ہوئی شاداب کہانی ہو تم

آنکھ ایسی کہ کنول تم سے نشانی مانگے

زلف ایسی کہ گھٹا شرم سے پانی مانگے

جس طرف سے بھی نظر ڈالو سہانی ہو تم

جسم ایسا کہ اجنتا کا عمل یاد آئے

سنگ مرمر میں ڈھلا تاج محل یاد آئے

پگھلے پگھلے ہوئے رنگوں کی جوانی ہو تم

شعر کا حسن ہو نغموں کی جوانی ہو تم

Leave a Comment

Pin It on Pinterest

Shares
Share This