مجھے گلے سے لگا لو بہت اداس ہوں میں

مجھے گلے سے لگا لو بہت اداس ہوں میں

مجھے گلے سے لگا لو بہت اداس ہوں میں

غم جہاں سے چھڑا لو بہت اداس ہوں میں

یہ انتظار کا دکھ اب سہا نہیں جاتا

تڑپ رہی ہے محبت رہا نہیں جاتا

تم اپنے پاس بلا لو بہت اداس ہوں میں

بھٹک چکی ہوں بہت زندگی کی راہوں میں

مجھے اب آ کے چھپا لو تم اپنی بانہوں میں

مرا سوال نہ ٹالو بہت اداس ہوں میں

ہر اک سانس میں ملنے کی پیاس پلتی ہے

سلگ رہا ہے بدن اور روح جلتی ہے

بچا سکو تو بچا لو بہت اداس ہوں میں

Leave a Comment

Pin It on Pinterest

Shares
Share This