دل مرا ڈولتا ہے

دل مرا ڈولتا ہے

دل مرا ڈولتا ہے

جو بھی نغمہ ہے مرے کانوں میں رس گھولتا ہے

دل مرا ڈولتا ہے

یہ گھٹاؤں کا ترنم یہ پپیہے کی صدا

دے رہی ہے کسی بچھڑے ہوئے موسم کا پتا

مرے گھونگھٹ کو خیالوں میں کوئی کھولتا ہے

دل مرا ڈولتا ہے

آج پھر دیتی ہے آواز تری پریت مجھے

آبشاروں نے سنائے ہیں ترے گیت مجھے

میں وہاں ہوں کہ اندھیرا بھی جہاں بولتا ہے

دل مرا ڈولتا ہے

روشنی دل کی مجھے راستہ دکھلائے گی

یوں ترے پاس مری آس پہنچ جائے گی

جیسے پرواز کو پنچھی کوئی پر تولتا ہے

دل مرا ڈولتا ہے

Leave a Comment

Pin It on Pinterest

Shares
Share This