کالے کالے بادلوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں

کالے کالے بادلوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں

کالے کالے بادلوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں

اب کے ساون او پردیسی آ جا اپنے گاؤں میں

دور کہیں کوئلیا بولے تن من میرا ڈولے

راہ تکوں تری پلک پلک میں گھونگھٹ کے پٹ کھولے

کنگن کھنکے ہاتھوں میں اور پائل چھنکے پاؤں میں

اب کے ساون او پردیسی آ جا اپنے گاؤں میں

بیت نہ جائیں تجھ بن بالم یہ بھیگی برساتیں

کیسے کاٹوں آنکھوں میں برہا کی لمبی راتیں

کوئل بن کے تجھے پکاروں میں انبوہ کی چھاؤں میں

اب کے ساون او پردیسی آ جا اپنے گاؤں میں

Leave a Comment

Pin It on Pinterest

Shares
Share This