میں کھو گیا یہیں کہیں

میں کھو گیا یہیں کہیں

میں کھو گیا یہیں کہیں

جواں ہے رت سماں حسیں

کہاں ہے دل کسے پتہ

کہاں ہوں میں خبر نہیں

میں کھو گیا یہیں کہیں

یوں کسی سے ہوا سامنا

دل نے آواز دی تھامنا

جانے کیا کہہ گئی وہ نگاہ نازنیں

میں کھو گیا یہیں کہیں

حال دل کہہ تو دوں جھوم کے

پیار سے زلف کو چوم کے

سوچتا ہوں مگر وہ خفا نہ ہو کہیں

میں کھو گیا یہیں کہیں

دھن جو رہی پیار کی

ہو رہے گی مری وہ کبھی

میرے دل میرے دل ٹھہر جا مچل نہیں

میں کھو گیا یہیں کہیں

Leave a Comment

Pin It on Pinterest

Shares
Share This